آیت حدیث

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بالکل صحیح، بالکل سچ، قابل یقین، آیت یا حدیث کی طرح معتبر۔  دوست کی ہر بات ہے بیخود کو تو آیت حدیث بات اس کی بزم میں کم بخت کیونکر کاٹتا      ( در شہوار بیخود، ١٩١٩ء، ٣٣ ) ٢ - اٹل اور مستحکم بات یا روایت وغیرہ۔ "مسلمان تو لکیر کے فقیر ہیں ہی ان کے ہاں یہ اختلاف اور جدائی ایک آیت حدیث بن گئی۔"      ( ماہنامہ، مخزن، لاہور، مارچ، ١٩٠٧ء، ٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم 'آیت' کے ساتھ عربی سے ہی اسم 'حدیث' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٨٤ء میں "آفتاب داغ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - اٹل اور مستحکم بات یا روایت وغیرہ۔ "مسلمان تو لکیر کے فقیر ہیں ہی ان کے ہاں یہ اختلاف اور جدائی ایک آیت حدیث بن گئی۔"      ( ماہنامہ، مخزن، لاہور، مارچ، ١٩٠٧ء، ٤ )